Home / خبریں / عربی ناولوں میں حقیقت نگاری

عربی ناولوں میں حقیقت نگاری

عربی ناولوں میں  حقیقت  نگاری  (ناول”زینب“کے حوالےسے)


٭مصطفی علاءالدین محمد علی

ریسرچ اسکالر، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی۔

ادب کی بیشتر اصناف انسانی زندگی اور خود اپنے عہد کی ترجمانی کرتی ہیں۔تاہم افسانوی اور ڈرامائی ادب میں عصری مسائل اور عصری حسیت کا انعکاس خاص طور سے نظر آتا ہے۔اسی پس منظر میں ناول کو ادب کا اہم ترین سماجی نمائندہ مانا جاتا ہے۔ ناقدین فن نے ناول کے وجود کو ہی انسانی زندگی میں رونما ہونے والی گو ناگوں تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔اس بنیادی گفتگو سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ناول اپنے عہد کا آئینہ دار اور وقت کے سماجی، سیاسی،اقتصادی اور ثقافتی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتا ہے۔اس میں جہاں سماج میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا چہرہ نظر آتا ہے وہیں آئندہ رونما ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کی تمہید وتلقین بھی ملتی ہے۔

عربی ناول نگاری کے حوالے سے جب ہم عربی ادب کی تاریخ مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1798 میں جب مصر پر فرانس کا قبضہ ہوا تو اس قبضے سے دو طرح کے پہلو سامنے آئے۔ ایک منفی پہلو اور دوسرا مثبت، منفی پہلو تو یہ سامنے آکہ جب دوسرے ملک کے لوگ وہاں کی سرزمین پر قابض ہو گئے تو سیاسی وسماجی طور پر پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڑگئی اور ہر جگہ اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔لیکن اس کے برخلاف مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ فرانس کی جدید تعلیم ،جدید ثقافت اور جدید افکار وخیالات نے وہاں کی سماجی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالا۔ اور وہاں کے تمام شعبہ ہائے زندگی میں انقلاب برپا کردیا۔علمی وادبی لحاظ سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عربی زبان کا دائرہ وسیع ہو گیا اور نئے علوم وفنون اس میں داخل ہو گئے۔جس کی وجہ سے ان کے ادبی وعلمی افکار وخیالات میں تبدیلی آئی اور وسعت پیدا ہوئی۔

پھر ترجموں کا دور آیا جس میں  کئی مصری ادبا نے غیر ملکی زبان کے قصوں کا عربی زبان میں ترجمہ کیا ۔اور مصری ادبا جدید ناول نگاری کی طرف رفتہ رفتہ قدم آگے بڑھانے لگے۔اس دور کے ادبا میں محمد عثمان جلال،مارون نقاش اور نجیب مراد کے نام بطور خاص پیش کئے جا سکتے ہیں۔جنہوں نے یورپی ممالک کی کہانیوں کو عربی زبان میں منتقل کر کے قصہ نگاری کے میدان میں بڑا اہم رول ادا کیا اور نئے افکار وخیالات سے عربی دنیا کو روشناس کرایا ۔

محمد حسین ھیکل  عربی زبان کے نامور ادیب اور معروف دانشورہیں۔جنہوں نے تاریخ نویسی ،صحافت،انشاپردازی اور ناول نگاری کی دنیا میں بڑا نام پیدا کیاہے۔اور اپنی علمی وادبی لیاقت اور غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر عرب میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے اور اعلی رتبہ حاصل کیاہے۔

 محمد حسین ھیکل   نے  قاہرہ کے لا کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد فرانس کا رخ کیا ۔جہاں کے خوبصورت ترین شہر پیرس سے 1912 میں سیاسی اقتصادیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔یہاں انہوں نے   نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ پیرس کے تہذیبی ،تعلیمی،سیاسی،سماجی اور علمی وادبی حالات وواقعات سے بخوبی واقف بھی ہوئے۔اس جگہ انہیں مصر اور فرانس کی سماجی زندگی کے  فرق کو پوری گہرائی سے دیکھنے کا شاندار موقع ملا۔

یہاں تک کہ اپنی پوری زندگی علم وادب کی خدمت کے لئے وقف کر دی۔اور اس کے نتیجے میں ہمارے لئے  ایسے شاندار علمی وادبی ذخیرہ چھوڑ گئے۔جنہیں عربی ادبی کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ یہاں ہم خاص طور سے  “اوقات الفراغ، عشرۃ ایام فی السودان، السیاسۃ المصریۃ والانقلاب الدستوری، مذاکرات فی  السیاسۃ المصریۃ” کے نام پیش کر سکتے ہیں جو ان کے سیاسی،سماجی،تہذیبی اور  ادبی افکار وخیالات کے بہترین  آئینہ دار اور بیسویں صدی کے مصر کے سیاسی وسماجی حالات وواقعات  کی خوبصورت  عکاسی کرتے ہیں۔

ھیکل نے ناول نگاری سب سے پہلے 1912 میں لکھا جب وہ پیرس میں زیر تعلیم تھے ۔یہ ناول” زینب” کے نام سے شائع ہوا جس پر گفتگو    آگے ہوگی۔ انہوں نے اس کے علاوہ بھی کہانیاں لکھیں جو مصر کے رسائل وجرائد میں شائع ہوتی رہیں۔ انہوں نے 1955 میں ایک دوسرا ناول لکھا جو ”ھکذا خلقت” کے نام سے شائع ہوا۔یہ ناول نہایت    اہم ہے۔کیونکہ یہ ناول  مصر کی ایک غیرتمند عورت کے کردار کو ظاہر کرتا ہے جو ہر جگہ اور ہر مقام پر اپنی غیرت وحمیت کا خیال رکھتی ہے۔ دیکھئے ھیکل خود اس کی تصویر اس طرح پیش کرتے ہیں:

“وہ اپنی زندگی کی کہانی ایسے آسان اور سیدھے سادے لہجے میں بیان کرتی ہے کہ آپ  کو محسوس  ہوگا کہ یہ ایک عام عورت ہے۔لیکن تھوڑی ہی دیر میں آپ حیرت  زدہ ہو کر دریافت کریں گے کہ آخر یہ کس عورت کی کہانی ہے؟ یہ کون ہے؟ یہ بالکل نئے طرز اور نئے مزاج کی عورت ہے جو زندگی سے پیار کرتی ہے۔مگر خود کو اس کے حوالے نہیں کرتی۔بلکہ اپنی عزت کے تابع رکھتی ہے اور عزت نفس اور خودداری کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتی ہے”

مصری کسان ایک ایسا شخص ہے جو اپنی حقیقت اور حالت کو  اچھی طرح جانتا ہے، اور  طاقت سے ڈرتا ہے ۔وہ حکمران کی بیعت اور اطاعت کو واجب الادا سمجتھا ہے، اور وہ انقلاب اور حملے پر استقرار  کو ترجیح دیتا ہے ، لیکن  جب صبر کا پیمانہ چھلک جاتا تو انقلابات کے دوران  پہلی صف میں ہونے سے ا نہیں کوئی نہیں روکتا ہے۔

یحیٰ حقی کہتے ہیں کہ

” زینب کے ناول کی حیثیت صرف ہماری جدید ادب میں پہلی کہانیوں کی وجہ سے صرف نہیں مانا جاتا  ہے، بلکہ آج بھی سب سے بہتر کہانی ہے کیونکہ وہ دیہاتی علاقوں کو مکمل تفصیل سے بیان کیا. اور کسانوں کی زندگی کی وضاحت  ،مصریوں کی زندگی کی وضاحت کرتے ہوئے مصرکی احوال کی حقیقت بیان ہے ۔”

یحیٰ حقی نے مزید کہا ہے کہ                                          

“محمد حسین ھیکل  کے زمانے  میں کہانی  صرف نفس کو  تفریح اور تسلی پر منحصر تھی،   اور وہ ڈر رہے تھے کہ لوگ ان کا ناول نفس کو  تفریح اور تسلی سمجھے ، اور مقصد وہ ہے کہ خاص طور پر دیہاتی  زندگی اچھی طرح سے بیان کرنا اور ساتھ ساتھ دیہاتی  کی خوبصورتی کی تعریف کرنا۔”

ناول کا بنیادی موضوع دیہی علاقوں کی اپنی نوعیت ، رسم و رواج اور اخلاق سے متعلق ہے جس میں زینب نامی ایک زرعی کارکن کی بات کی گئی ہے ، جس کی شادی حسن سے ہوئی ہے ، لیکن اس شادی پر اس کو یقین نہیں آیا ، زینب دوسرے فرد سے محبت کی، جس نے  قومی فوجی خدمات انجام دینے کے لئے  سفر کیا ، جس کا نام ابراھیم تھا۔

مصنف یورپی ثقافت کے کردار کے لئے کھلا ہوسکتا ہے اس مسئلے سے نمٹنے میں سب سے بڑا مصری معاشرے اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں ہے ، جو نوجوانوں کی زندگیوں کو ایک ناقابل برداشت جہنم میں بدل دیتا ہے۔

اس معاشرتی مسئلے کا علاج دیہی علاقوں میں اس کے مختلف قدرتی اور معاشرتی مناظر کے ساتھ تھا ، اور سال کے موسموں میں اور جو ہر باب کو دوسرے ابواب سے ممتاز کرتا ہے۔ کسانوں کا کھانا ، ان کے کام کی زندگی ، ان کی خوشیاں ، رات اور دن کی خوبصورتی کو بیان کرتی ہیں اور گھروں ، مسجد اور کھیتوں کو بیان کرتی ہے۔

ھیکل کا کہنا ہے کہ مصنف نے کسانوں کو اس طرح تصویر کشی کی ہے کہ

 “تھکن کے باوجود وہ اس زندگی سے مطمئن ہیں خدا اس پر آسمان کی چوٹی سے آگ برساتا اور وہ اسے خاموشی سےسہتا ہے ، وہ واپس چلا جاتا ہے اور اپنے ہل کے پیچھے پیچھے چلا جائے گا ، یا اس کی کمر کو زمین میں کئی گھنٹوں تک جھکائے گا ، اور کل اور آج جو کچھ کرے گا وہ کرے گا ، اور پرسوں وہ کل یہ کرے گا اور بدحالی سے مصائب کی طرف بڑھے گا اور جنت میں واپس آئے گا۔ وہ طاقت سے تنگ ہوکر اپنے گھر واپس آیا ، زکوما کھلایا اور لٹکا دیا ، پھر وہ اس زمین سے کم کچا ہوا ، جس پر جانور سوتے تھے ، اور اس نے اسے ڈھونڈنے اور تباہ کرنے کو کہا اور اسے اپنے دائیں اور بائیں طرف کے تنگ خانے میں گھیر لیا۔ کیا یہ سب ذلت و شرارت کے لئے ہے؟ لیکن اس میں ، جیسا کہ اس کے سارے بھائی سادہ لوح اور تباہی کی پشت پر کام کررہے ہیں ، اور حدود کا قانون بوسیدہ ذائقہ نسلوں کو دیا جاتا ہے دادا   سے والد کو نسل در نسل ملتا ہے”

یہ کسانوں کی زندگی بیان کرنے کا ایک زندہ نمونہ ہے ، وہ ظالمانہ زندگی ، سخت تھکاوٹ ، ظاہر کی نافرمانی ، سادہ لوح کھانے ، بہت ساری اولاد کی پیداوار ، ایک سادہ مکان میں رہنے والے ، لیکن کسان مطمئن  ہے یحیٰٰ حقی نے کہا ، “زینب نے ایک دیہی خاندان کے فرش پر بیٹھے ناشتے کے کھانے کے لئے بیٹھنا شروع کیا اس سے پہلے کہ وہ سب محنت مزدوری کرنے نکلے۔”

اس حقیقت کے باوجود کہ یہ “عزیزہ” طالبہ آزادی سے ممتاز ہوتی ہے، اور حامد طالب علم  رسم ورواج کے خلاف سوچتا ہے،اس نے کام کی کوئی نئی سطح فراہم نہیں کی ، بلکہ یہ ان کی رخصتی تھی ، ساتھ ہی زینب جو معاشرتی نظام کا شکار ہے ، سوائے اس کے سوچا کہ سوچنے سمجھنے کی سطح پر ، اور ابراہیم کا ، جو سوڈان جانے کے لئے اپنی مرضی کے خلاف اپنی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔

مصنف نے طبقے کے استحصال اور اس صورتحال پر قابو پانے کے مالکان کی خواہش کا واضح حوالہ دیا ہے ، جیسا کہ ابراہیم کی غربت اور اس کی مشکل صورتحال کی وضاحت کی گئی ہے ، لیکن انہوں نے ایسا کیا ، اور لوگوں کو ان کی حیثیت سے مطمئن رکھا ، ان کی سب سے اچھی نمائندی کسان کرتے ہیں “مصنف کا کہنا ہے کہ ،” وہ ہمیشہ مستحکم اور مضبوط پیروں پر چلتے ہیں۔ صبر کا دن اور اس کے امکانات جو ان کے باپ دادا کے لئے گذشتہ زمانے میں تھے ، وہ چمڑی جو پیر سے شروع ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ فرعون کے کسان سے فلاح اسماعیل اور کسان تک آجاتی ہے ، جو زندگی کی خوش بختی کی اس بدقسمت برادری کو باشی ملتی ہے اور اسے غربت کی اس لامحدودیت کے سامنے کرتی ہے ، ، اور اس کے چہرے پر وہ مسکرایا۔ زہریلا قانا “

زینب اس ناول کی ایک اہم کردار ہے۔ ناول اس کی ابتداء کرتا ہے اور اس کی موت کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے۔ ناول کا نام زینب ہے ، اور ناول میں ہونے والے واقعات اس سے متعلق ہیں۔ اس خوبصورت لڑکی ، زینب نے مداح حامد کی آنکھوں سے بیان کرتے ہوئے کہا:

 “اس کی آنکھیں نجلان کی ہیں ، ، اس کا لباس ایک زرخیز جسم پر بڑھتا ہے ، اور اس نے اپنے ہاتھوں میں بالنمٹن بیان کیا حالانکہ یہ ان کے ساتھ کام کرتا ہے “۔

اور مصنف نے خط و کتابت کا طریقہ استعمال کیا اور یہ بہت ہی ہم آہنگ ہے ، اور تکنیکی اور منطقی طور درست ہے  خاص طور پر ایک امیر گھرانے کی لڑکی کے لئے ، اور حامد متعلم کے اہل خانہ کے لئے بھی ، اور جب ہی حامد شادی سے انکار کرتا ہے ، اور بغاوت کرتا ہے ، عزیز ہ کے ساتھ اس کے ختم ہو جاتے ہیں وہ اسے بنا دیتا ہے کہ اس کے گھر والے اس کی شادی کرا رہے ہیں ، اس طرح یہ جذباتی رشتہ ناکام  ہو جاتا ہے۔

بول چال گفتگو کا استعمال کسانوں کی شخصیات کے ساتھ موزوں ہے ، اور اظہار خیال کے ذریعہ کچھ بیانات اور بول چال کے الفاظ بیان کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مصنف زبان کے اعتبار سے عاجز ہے، کیونکہ انہوں نے نہایت باریک بینی سے رومانیت اور خوبصورتی کو بیان کیا ہے ۔” زینب” ناول مکمل طور سے سجع بندی سے پاک ہے۔ جس خصوصیت کے ساتھ زینب ھیکل کی تحریروں میں ظاہر ہوئی ہے، وہ مصنف کی مصری رجحانات کا پتہ دیتی ہے یعنی ایک مصری طرز کی تخلیق کرنا ہے جس میں مقامی زبان واضح ہے

یہ ناول پڑھ کر مصر کی سماجی اور تہذیبی زندگی کی حیثیت وحقیقت  معلوم ہوتی ہے ۔مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں کس قدر ہمتور،حیادار،غیرت پسنداور اعلی قدروں کی حامل ہوتی ہیں۔اس ناول سے یہ تمام باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔  اس ناول میں زبان واسلوب بیان صاف ستھرا اور واضح استعمال کیا گیاہے۔اس ناول کے مطالعہ  سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد حسین ھیکل مصری زندگی اور اس کے طور طریقوں سے بے پناہ پیار کرتے ہیں اور کھل کر انہیں قاری کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔اس ناول کے علاوہ  انہوں نے جو دوسری مختصر کہانیاں لکھی ہیں ان سب کا محور ومصداق مصر اور اس  کی تہذیب وثقافت ہے۔

*****

About ایڈمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus